پاکستان

ایم کیوایم پاکستان کو اندرونی چیلنجزکا سامنا

کراچی (تجزیاتی رپورٹ:مزمل فیروزی)وطن عزیز میں پڑھے لکھے لوگوں کی سمجھے جانے والی جماعت آج کئی دھڑو¿ں میں بٹ چکی ہے فاروق ستاراور مصطفی کمال کی وجہ سے ایم کیو ایم اپنا مقام اور عوام پر گرفت کھو چکی ہے اگر یہ دونوں رہنما شاید آج ساتھ ہوتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی موجودہ متحدہ میں کوئی بھی نظریاتی یا سینئر رہنما رابطہ کمیٹی یا تنظیمی معاملات میں نظر نہیں آتا یہی وجہ ہیکہ موجودہ قیادت سے نالاں خاموش بغاوت جنم لے رہی ہے اورکچھ پرانے نظریاتی کارکنان نعم البدل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی زرائع کے مطابق مایوسی کی بڑی وجہ بندر بانٹ ہے بلدیاتی ٹھیکوں میں اپنے قریبی لوگوں کو شامل کرنااور پرانے اور محنتی کارکنان کو نظرانداز کرنا، بلدیہ میں بدترین کارکردگی، اختیارات کا روناروتے رہنااور اقرباپروری کی وجہ سے ایم کیو ایم اپنا اثرورسوخ کھو چکی ہے یہی وجہ ہیکہ ایم کیو ایم کارکنان کا ذہن ان چیزوں سے ہٹانے کیلئے اور اب اپنی بقاءکیلئے مہاجر کارڈ کھیلنا شروع کردیاہے،ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے حالیہ انتشار کی وجہ سابق حقیقی رہنما عامر خان اور بانی ایم کیو ایم کے قریب ترین ساتھی کنورنوید جمیل ہیں کیونکہ اب فیصلے رابطہ کمیٹی،تھنک ٹینک اور کارکنوں کے بجائے بند کمروں میں مخصوص افراد کررہے ہیں عہدیداروں کا انتخاب خدمات کے بجائے مالی حیثیت اور اثرورسوخ کی بنیاد پر کیا جارہاہے،خاموش باغی رہنماو¿ں اور نظریاتی کارکنان کا کہنا ہیکہ آج بھی وہ ہی پرانے چہرے پارٹی چلارہے ہیں جنکی وجہ سے پارٹی بدنام ہوئی تھی،پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہیکہ عامر خان کے الیکشن نہ لڑنے کی وجہ بھی پارٹی پر گرفت کو مضبوط کرناتھا جبکہ خالد مقبول صدیقی کو الیکشن لڑانے کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ الیکشن جیت کراپنی وزارت میں مشغول رہے گئے اس وقت ظاہری طور پر تو ڈاکٹر خالد پارٹی سربراہ ہیں مگر درحقیقت پارٹی کوئی اور چلا رہا ہے یہی وجہ ہیکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ایک مرتبہ پھر اختلاف کا شکار ہو گئی صو بہ بناو¿ تحریک میں وفاقی وزرا ء کی عدم دلچسپی پر عامر خان برہم دکھائی دیتے ہیں،ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کے صوبے سے متعلق اعلان کے بعد متحدہ پاکستان کی وفاق حکومت کی جانب سے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی مخالفت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جس کے تحت متحدہ نے اپنی مدد آپ کے تحت صوبہ بناو¿ تحریک میں مہاجر سیاست سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتوں کو الائنس کا حصہ بنانے پر زور دیا جارہا تھا ذرائع کے مظابق وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلمدان سنبھالنے کے بعد خالد مقبول صدیقی کی تنظیمی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں یا کردیا گیا ہے اس بار ے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر لگتا ابھی حال ہی میں وزیراعظم کی زیرصدارت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیاپارٹی ذرائع کے مطابق رکن اسمبلی اسامہ قادری نے اجلاس میں ایم کیوایم نے کراچی کو ترقیاتی پیکج نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیاایم کیو ایم کی جانب سے اسیر اورلا پتا کارکنان کی بازیابی اورپارٹی دفترکھولنے کا مطالبہ بھی دہرایا گیامگر صوبے کی کوئی بات نہیں کی گئی صوبے کا نعرہ صرف کارکنان کی حد تک ہی محدود ہے ایم کیو ایم کو رام کرنے کیلئے ایک اور وزارات دئے جانے کا امکان ہے اب دیکھنا یہ ہیکہ ایم کیو ایم اپنے اندرونی معاملات کو کیسے سنبھالتی ہے اور کارکنان کو کس طرح تسلی دیتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close