پاکستانکالم و تجزیے

متحدہ نئے صوبے کے معاملے میں غیر سنجیدہ

کراچی (تجزیہ :مزمل احمد فیروزی)
ایم کیوایم پاکستان رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر عامر خان نے ایک بار پھر کہا کہ سندھ میں الگ صوبے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کریں گے بقول ان کے وزیراعظم نے بیان دیا ہے کہ کراچی میں الگ صوبے کی ضرورت نہیں۔ وہ ایسا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں کہ صوبے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ماہرین کے مطابق قانونی تقاضہ ہے کہ کو دو تہائی اکثریت چاہیے، منظوری چاہیے وہ نظرنہیں آتا ہے کہ ایسا کچھ ہوگا ، تو کیا فیصلہ سڑکوں پر ہوگا اگر معاملہ حل نہیں ہوگا تو پھر ایم کیو ایم کیا کرے گی کیا ایم کیو ایم حکومت سے باہر آنے کا سوچ سکتی ہے ہر بار ایم کیو ایم کو نئے صوبے کامطالبہ اس وقت کیوں یاد آتا ہے جب وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے جبکہ ایک وقت ایساتھا کہ ایم کیو ایم وزیر اعلی سندھ میں بنانے کی پوزیشن میں تھی اسوقت ایم کیو ایم نے وزیراعلی نہ بناکر غلطی کی ؟ ایم کیو ایم کے پاس سندھ کی طویل ترین گورنر شپ رہی مگر ایم کیو ایم تب بھی مہاجروں کیلئے کچھ نہ کرسکی جس کی خمیازہ پوری مہاجر وقم بھگت رہی ہے ،نئے صوبے کے بارے میں متحدہ کا دہرا معیاراور غیر سنجیدہ کر دار سب کے سامنے ہیں،متحدہ نے مشرف دور میں کوٹہ سٹم اور صوبے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی ایم کیوایم اگر مخلص ہوتی تو اپنے دور میں باآسانی یہ کر سکتی پنجاب میں صوبے کے حامی وزیراعظم عمران خان نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے اصول موقف سے ہٹنے کے بجائے پیپلز پارٹی اور اندورنی سندھ رہنما?ں کے دبا? کے سامنے جھکتے ہوئے اپنے اہم ترین اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ کے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کا بنیادی مطالبہ یکسر مسترد کردیا ، عمران خان کاکراچی میں ہوتے ہوئے ایم کیو ایم کی دعوت افطار میں شرکت نہ کرنا بہت سی باتوں کی طرف اشارہ کررہا ہے مگر بھی ایم کیو ایم کی طرف سے نرم رویہ روارکھے جانے کا مقصد سمجھ سے بالاتر ہے ،کراچی کے شہریوں نے وزیراعظم کے اس فیصلے پرحیرت اور افسوس کا اظہار کیا اور دہرامعیار قرار دیا ہے کہ عمران خان پنجاب کے صوبے تقسیم کے لئے خود مہم چلا رہے ہیں لیکن سندھ میں اس کے الٹ فیصلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں جو غیرا صولی اور غیر امتیازی ہے دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ میں نئے صوبے کا قیام ا ور کوٹہ سسٹم کے خاتمے کیلئے کبھی سنجیدہ نہیں رہی اگر یہ لوگ مخلص ہوتے تو مشرف دور میں یہ کام باآسانی کرلیتے اس وقت سندھ اسمبلی میں بڑ ی اکثریت حاصل تھی اور سب سے بڑھ کر مشرف خود ان کے ساتھ تھے اور دوسری طرف سندھی قیادت خود متحدہ کی محتاج کی تھی اور ایم کیو ایم کے پاس اختیارات بھی تھے مگر ایم کیو ایم نے کبھی اردو بولنے والوں کے اہم ترین مسئلے کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا اور ہمیشہ مفادات کی سیاست کی یہی وجہ ہیکہ ایم کیو ایم نے کوئی عملی کوشش نہیں کی ہر دفعہ ایم کیو ایم اپنی کم ہوتی مقبولیت کو بچانے کیلئے صوبے کا نعرہ اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا شور شروع کردیتی ہے کراچی کے باشعور عوام ایم کیو ایم کی زاتی مفادات کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں اور اب متبادل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close