پاکستان

باچاخان چوک پل کے نیچے پتھاروں کی بھر مار، ٹریفک جام معمول بن گیا

کراچی(رپورٹ:فضل حیات)اورنگی اورپیرآباد پولیس کی سرپرستی میں بنارس باچاخان چوک پ±ل کے نیچے پتھاروں کی بھر مار، ٹریفک جام معمول بن گیا، روزہ دار پریشان۔ تفصیلات کے مطابق اورنگی اور پیرآباد تھانے کے سرپرستی میں بنارس باچاخان چوک، باچاخان فلائی اوور کے نیچے میں روڈ پر فروٹ و سبزیوں کے پتھاروں کی بھر مار سے ٹریفک جام معمول بنتا جارہاہے، زرائع کے مطابق پولیس کی سرپرستی میں کھڑے ہونے والے ریڑھی بانو سے روزانہ پیسے لیے جاتے ہے، زرائع نے بتایا کہ ”نیاز خان عرف ِشِینا“ اور”قیمت غفور عرف س±ر“ پولیس بیٹر بن کر روزانہ کی بنیاد پر ایک ریڑھی سے سو روپے سے لیکر 150روپے تک بھتہ وصول کرتے ہیں، زرائع کے مطابق روڈ اور روڈ کی اطراف کھڑی ہونے والی ریڑھیوں سے 150اور اندر کی جانب موجود ریڑھیوں سے 100روپے وصل کئے جاتے ہیں۔ زرائع کے مطابق بنارس باچاخان فلائی او ور کے نیچے روڈ پراور اس سے متصل فٹ پاتوں پر ہی صرف ساڑھے تین سو ریڑھیا کھڑی ہوتی ہے جس سے مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر پولیس کم و بیش42000ہزار روپے بھتہ وصل کرتی ہے،(واضح رہے کہ ڈی ایم سی کا عملہ الگ بھتہ لیتا ہے ہے جو ہفتہ وار ہوتا ہے،)جب کہ پل کے نیچے مین منگھو پیر روڈ کے علاوہ بھی سینکڑوں ریڑھیا اور پتھارے لگے ہوئے ہے جو الگ بیٹر کو پیسے دیتے ہیں۔مین منگھو پیر روڈ پر کھڑی فروٹ و سبزیوں کے ریڑھیوں آنے جانے والے ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ارد گرد د±کانداروں کو بھی ان پتاروں پر شدید تحفظات ہے، تندور و چولہے بھیجنے والے د±کاندار نے آزاد ریاست کے نمائندے کو بتایا کہ ہم ہزاروں روپے کرایہ دیتے ہیں، مگر یہ پ?تھارے والے ہمارے د±کانوں کے اگے ریڑھیاں کھڑی کردیتے ہیں، منع کرنے پر جھگڑا معمول بن گیا ہے، پولیس کو بتاو¿ تو ہمیں ہی سمجھانا شروع کردے تھے ہے،کہتے ہے کہ یہ غریب ہے کیوں کسی غریب کے پیٹ پر لات مارتے ہواور خود اس غریب سے پیسے لیتے ہے۔ راہ چلتے موٹر سائیکل والے نے آزار ریاست کو بتایا کہ جب سے رمضان شروع ہوا ہے یہ ریڑھیا بلکل مین سڑک پر آگئی ہے جس کی وجہ سے آنے جانے والی گاڑیوں اور روزہ داروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close