تازہ ترینپاکستان

مہنگائی کا جن بے قابو ، انتظامیہ ناکام ، عوام پریشان

کراچی(خصوصی رپورٹ:معین الدین احمد )ماہ مبارک کی آمد سے قبل ہی ہمارے معاشرے میں ناجائز منافع خوراور ذخیرہ اندوز متحرک ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اس مہینے میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور عوام کی پہنچ سے باہر ہوجاتی ہیں۔رسد اور طلب میں عدم توازن، ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی اور متعلقہ حکومتی اداروں کی صورتحال پر قابو رکھنے میں ناکامی اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں اور بسا اوقات قیمتوں میں 100 فیصد سے بھی زائد اضافے کا باعث بنتی ہیں۔رواں سال بھی ماہ رمضان کا آغاز ہوتے ہی اشیائے خورونوش اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ،کراچی میں مہنگائی کا جن بے قابو کمشنر کراچی کی کاروائیاں بھی کام نہ کر سکی. گزشتہ دس دنوں میں 51گرانفروشوں کو جیل بھیجا گیا 1915کیسز رجسٹرڈ کئے گئے جبکہ تھرسٹھ لاکھ سے زائد جرمانہ وصول کیاگیامگر پھر بھی عوام پریشان کیا خریدے کیاگھر لے کر جائے.. سائیں سرکارکے وزرا ءکے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کرمہنگائی کم کرنے اورگرانفروشوں کیخلاف سخت کاروائی کے دعوے دکانداروں کے من مانے ریٹ،عوام پریشان کوئی پرسان حال نہیں، صوبائی وزیر سپلائی پرائسز صاحب نے جیسے دودھ کی قیمت بڑھنے نہیں دی اسی طرح تمام ڈپٹی کمشنرز کو ھدایت جاری کردی ہیں اور جو ڈپٹی کمشنر کارروائی نہیں کریگا اس کو شوکاز نوٹس دیا جائے گا۔ اور عوام شکایت کرے ڈپٹی کمشنرز کے شکایتی سیل میں تاکہ کاروائیاں مزید تیز ہو سکے پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ حکومت سندھ رمضان المبارک کے مہینے میں مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ کمشنر کراچی کی پرائس لسٹ کے مطابق مارکیٹ میں کہیں اشیاءفروخت نہیں کی جارہی۔ کمشنر کراچی سے ملاقات میں انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جائے گا لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس وعدے پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں اس وقت نہ بچت بازار نظر آرہے ہیں اور نہ ہی سستی اشیاءخوردونوش۔ جو کہ حکومت سندھ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مارکیٹ میں کراں فروشوں کا کہنا ہے کہ ہول سیل مارکیٹ کی قیمتوں میں کمی نہیں تو ہم کیسے سستی چیزیں فروخت کریں۔ کمشنر کراچی اور حکومت سندھ نے کیوں اس مافیا کے خلاف آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔مہنگائی مافیا نے مہنگائی کر کے حکومت سندھ کے منہ پر تمانشا مارا ہے۔ کمشنر کراچی کو سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ حکومت سندھ نہیں چاہتی کہ عوام کو کسی قسم کا ریلیف ملے۔مہنگائی کو قابو کرنا صوبے کی ذمہ داری ہے، حکومت سندھ اور انکے وزرائ اسکا ملبہ وفاق پر نہ ڈالیں۔ اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لئے دوسروں پر الزامات لگانا پیپلز پارٹی کا وطیرہ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما و وائس چئیرمین کورنگی کریک نصرت اللہ کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزو ں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ماہ رمضان میں دنیا 50 فیصد تک رعایت دے رہی ہے مگر افسوس ہے کہ ہماری حکومت نے 200 فیصد مہنگائی کر دی۔اگر مشکل حالات بھی ہیں تو ایک ماہ انتظار کر لیتے پھر مہنگائی بم گرا دیتے۔ مارکیٹ میں خریدار کم ہیں اور جو کچھ خرید بھی رہے ہیں وہ بھی بہت ساری اشیاءخرید نہیں پاتے۔ دھنیا اور ہری مرچ، سبزی کے ساتھ مفت ملتے تھے مگر اب وہ بھی مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں۔ بازاروں میں غیر معیاری اشیاء فروخت ہورہی ہیں، یہاں تو اشیاءبھی غیر معیاری اور ملاوٹ زدہ فروخت ہورہی ہیں جنہیں کھانے والے بیمار ہو رہے ہیں۔حکومت کو ان تمام مسائل پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ سندھ حکومت میںکرپشن بہت زیادہ ہے، اگر اعلیٰ افسران کو نچلی سطح کی کرپشن نظر نہیں آرہی تو یہ مسئلہ بھی حکومت کا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close