تازہ ترینپاکستانکالم و تجزیے

مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے کا امکان

کراچی (تجزیاتی رپورٹ:مزمل فیروزی) پاکستان مسلم لیگ ن میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد کئی ارکان پارٹی چھوڑنے پر تیار ہو گئے۔ مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے کا بھی امکان ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے کئی ارکان پارٹی میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں اکثر لیگیوں کا خیال تھا کہ شہباز شریف اہم حلقوں سے معاملات طے کرلیں گے، اور اس حوالے سے شہباز شریف نے ان کو یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ وہ معاملات کو سنبھال لیں گے مگر شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی اور مسلم لیگ ن میں نواز شریف کے ساتھیوں کی پارٹی کے اہم عہدوں پر نامزدگی سے کئی ارکان مایوس ہوگئے۔سینئر سیاستدان شیخ رشید کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ ن میں فاروڈ بلاک بننے جا رہا ہے،شیخ رشید کا نون لیگ میں فارورڈ بلاک کا دعویٰ تب ہی سچ ثابت ہوگیاتھا جب پرویز الہی کا ووٹ زیادہ ملے تھے اور مسلم لیگ نون میں فارورڈ بلاک واضح ہو گیاتھا۔ مسلم لیگ ن کے 10 سے 12 ایم پی ایز تحریک انصاف سے مسلسل رابطوں میں ہیں، ان میں سے 5 ارکان وہ بھی ہیں جنہوں نے اسپیکر الیکشن میں پارٹی امیدوار کے بجائے چودھری پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تھا، یہ ارکان گرین سگنل ملنے پر فارورڈ بلاک یا اپنی پارٹی سے الگ ہوسکتے ہیں۔ شہباز شریف نے لندن جانے سے پہلے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس فارورڈ بلاک کے سدباب کے لیے طلب کیا گیا تھا تاہم تمام نو منتخب ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے اب جبکہ شہباز شریف پاکستان میں نہیں ہیں اور مریم نواز کو ایک اہم عہدہ دیا جاچکا ہے تو بہت مریم نوازکیخلاف اراکان جلد کوئی لائحہ عمل طے کرے گے دوسری طرف سعد رفیق اور جاوید لطیف بھی پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے پاکستان مسلم لیگ دھڑے بندی کا شکار ہے جس کے بعد پارٹی کے اہم رہنماﺅں نے بھی قیادت سے ناراضگی کا اظہار کر دیاتھا مگر ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی اور ان کے تحفظات دور نہیں کئے جاسکے ،ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے شریف برادران کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔سعد رفیق گزشتہ دو ماہ سے شریف برادرانسے سخت نالاں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ 1999ء کی طرح شریف برادران رات کے اندھیرے میں اپنا سامان لے کر بھاگ جائیں گے اور ہم جیل میں لڑتے مرتے رہیں گے مگر اب شریف برادران نے ایسا کیا تو پوری مسلم لیگ ن ان کے خلاف ہو جائے گی، ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے ن لیگ کی ممکنہ جارحانہ پالیسی کا توڑ کرنے کیلئے ان کو مناسب وقت میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان ارکان کو خصوصی فنڈ اور ان کے حلقوں میں فری ہینڈ دینے کی بھی یقین دہانی کرائی ہےجبکہ دوسری طرف سندھ میں بھی رہنماﺅں کو تحفظ ہیں کیونکہ حالیہ تبدیلیوں میں سندھ کے رہنماﺅں کوبھی توجہ نہیں دی گئی ، علی اکبر گجر اور شاہ محمد شاہ کے اپنے اپنے گروپ ہیں اور سندھ میں بھی ن لیگ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close