تازہ ترینپاکستان

کیا صرف تجاوزات کا خاتمہ کافی ہے !

کراچی(تجزیہ:. ارشد قریشی )سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کراچی کے اہم بازاروں میں تجاوزات کے خلاف بڑی موثر کارروائی جاری ہے۔ کراچ صدر کے معروف اور مصروف ترین علاقے میں سینکڑوں دکانیں گرادی گئیں جن میں ایمپریس مارکیٹ کی مشہور پرندہ مارکیٹ اور خشک میوہ جات کی مارکیٹ سرِ فہرست ہیں۔یہاں عارضی نہیں مستقل پختہ دکانیں قائم کی گئی تھیں اور جہاں جہاں بھی تجاوزات گرائے جارہے ہیں ان میں زیادہ تر دکانیں مستقل بنیاد پختہ بنائی گئیں تھیں ، شہر میں جاری اس کارروائی میں نہ صرف چھوٹی دکانیں بلکہ معروف اسٹور بھی شامل ہیں جنہیں نوٹس جاری کرنے کے بعد گرایا جارہا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ماضی کی طرح شدید ترین مزاحمت سامنے نہیں آئی شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ اس بار یہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم پر کی جارہی ہے جب کہ یہ مطالبہ ضرور سامنے آیا کہ گرائی جانے والی دکانوں کو متبادل جگہ دی جائے تاکہ ان کے ہونے والے نقصانات کا کچھ ازالہ ہوسکے۔یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جن کو ناجائز تجاوزات قرار دے کر گرایا جارہا ہے یہ ایک دن میں نہیں بنائے گئے ان کو بنانے میں کئی سال لگے ہیں یہ کئی سالوں تک جائز رہنے والےسپریم کورٹ کے حکم کے بعد اچانک ناجائز کیسے ہوگئے ! اداروں کی ناک کے نیچے سب کچھ ہوتا رہا جہاں ایک ٹھیلہ کھڑا ہوتا تھا وہاں چھپرا اور پھر پختہ دکان اور دکان سے مارکیٹ بنی تو ٹھیلے کو چھپرا بننے سے روکنے والے ادارے اس وقت کہاں تھے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اسی وقت اسے ناجائز کیوں نہیں قرار دیا گیا۔چند ٹکوں کی خاطر ایک ناجائز تعمیر کو آنکھ بند کرکے جائز کیوں قرار دے دیا گیا۔ عدالت کے ایسے حکم پر کارروائی عارضی ہوتی ہے کچھ وقت بعد یہاں پھر وہی لوگ اپنے فرائض سے غفلت برتیں گے اور پھر سے تجاوزات قائم ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فیصلوں میں ان کو بھی مجرم ٹھہراتے ہوئے سزا سنانی چاہیے جن کی وجہ سے یہ ناجائز تجاوزات قائم کیے گئے اور ان ہی اداروں سے ان گرائی جانے والی دکانوں کے مالکان کو معاوضہ دلوانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی فرد یا ادارہ اس گھناو¿نے جرم کا تصور بھی نہ کرسکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close