تعلیم و صحت

صرف تصاویر کو دیکھ کر آنکھوں کے امراض شناخت کرنے والی ایپ

برکلے، کیلیفورنیا: کیمرے کی روشنی آنکھ کو کبھی کبھی سرخ دکھاتی ہے جسے ریڈ آئی کہا جاتا ہے لیکن اسی طرح روشنی کا جھماکہ آنکھ کی پتلی کو سفید دکھاتا ہے اور عین اسی معاملے کو دیکھ کر چھوٹے بچوں میں آنکھوں کے سب سے عام کینسر کی شناخت کی جاسکتی ہے۔اسی بنا پر وائٹ آئی ڈٹیکٹر ایپ بنائی گئی تھی جو 2014ءسے استعمال ہورہی ہے اور اب اینڈروئڈ اور اور آئی او ایس کے لیے دستیاب ہے۔ اب تک اس پر 50 ہزار تصاویر دیکھ کر 20 بچوں کی آنکھوں میں سرطان کی درست شناخت کی جو چھوٹے بچوں میں آنکھوں کے کینسر کی سب سے عام بیماری بھی ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ ایپ بچوں میںآنکھوں کے مرض کی کیفیت ایک سال قبل ہی بتاسکتی ہے۔ اگرچہ اسے سفید آنکھ والی ایک اور بغیر سفید آنکھ والی دو تصویریں دکھائی گئیں لیکن اس نے کینسر شناخت کرلیا۔ یعنی ایک بچے کی کئی ایسی تصاویر ایپ میں ڈالی گئی تھیں جن میں روشنی نے آنکھ میں سفید دھبہ ظاہر کیا تھا لیکن اکثر تصاویر میں وہ غائب تھا۔آنکھوں میں اگر سفیدی اتر آئے تو یہ موتیا، رگوں کی بے قاعدگی اور ’ریٹنو بلاسٹوما‘ جیسے کینسر کی علامت ہوسکتی ہے۔ اگر آنکھوں کا کینسر بروقت پکڑا جائے تو اس سے بصارت بچانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوگا جب ایپ کسی طرح روشنی کو آنکھوں کے پتلیوں میں سفیدی کے ساتھ ظاہر کرے اور کیمرے کی تصویر کبھی کبھار یہ عمل انجام دیتی ہے۔لیکن یاد رہے کہ کبھی کبھی ایپ آنکھوں کی سفیدی کو کیمرے کی روشنی کو خاص زاویہ بھی قرار دیتی ہے جس کا مطلب یہ نہیں کہ واقعی کینسر کا مسئلہ درپیش ہے وہ کوئی تکنیکی فالٹ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ ایپ برائن شا نے بنائی ہے اوران کا بچہ صرف تین ماہ کا تھا کہ اس کی آنکھ میں سرطان شناخت ہوا تھا اور اب وہ ایک آنکھ سے محروم ہوچکا ہے۔جب شا نے بچے کی تصاویر دیکھی تو ایک تصویر میں آنکھ اس وقت سفید دکھائی دے رہی تھی جب وہ صرف 12 دن کا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے دیگر ماہرین سے رابطہ کیا اور ایپ پر کام شروع کیا جس کے بعد ہزاروں افراد نے اسے ڈاون لوڈ کیا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ ایپ نے کس طرح ان کی مدد کی ہے اور بچے کی آنکھ میں کینسر کی خبر دی ہے۔دوسری جانب رائل لندن ہسپتال کے ماہر ایشوِن ریڈی کہتے ہیں کہ اگر آ پ کو ڈیجیٹل تصاویر میں بچے کی آنکھ کے سیاہ حلقے میں سفیدی نظر آ جائے تو اسے کسی صورت نظر انداز نہ کیجیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close